Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پیسے دے کر کسی اور کو پیپر دینے کے لئے بھیجنا

Fatwa no.
2382-WAT

Question

دارالافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا عذر کی وجہ سے ادارے کو زیادہ پیسے دے کر اپنی جگہ کسی اور کو پیپر دینے کے لیے بھیجنا جائز ہے؟

Answer (beginning)

پیسےدےکرکسی اورکوپیپردینےکےلئےبھیجنا عجیب مولانا محمد سعید عطاری مدنی فتوی نمبر: 2382-WAT تاريخ اجراء: 08 رجب المرجب 1445ھ / 20 جنوری 2024ء سوال دارالافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا عذر کی وجہ سے ادارے کو زیادہ پیسے دے کر اپنی جگہ کسی اور کو پیپر دینے کے لیے بھیجنا جائز ہے؟ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الب بونِ الْمَلِكِ الوَهَّابِ اللَّهُم هِدَايَةَ الْحَقُّ وَالصَّوَابِ پیسے دے کر اپنی جگہ کسی اور کو پیپر دینے کے لیے بھیجنا، شرعا جائز نہیں ، اور اس کے لیے پیسے دینار شوت ہے 66 اور رشوت ناجائز و حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.