Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لڑکی کا نام "مدینہ نور" رکھنا کیسا؟

Fatwa no.
2381-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا لڑکی کا نام " مدینہ نور " رکھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

نور کا معنی روشی ہے اور مدینہ کا معنی شہر ہے، اس معنی کے اعتبار سے نام رکھنا اگر چہ جائز ہے، مگر لڑکی کا مدینہ نام رکھنا مسلمانوں میں معروف نہیں، اس لئے یہ نام نہ رکھا جائے ، اس کی بجائے نور فاطمہ نام رکھ سکتے ہیں۔ اور بہتر یہ ہے کہ بچیوں کے نام صحابیات وازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن اور نیک بیبیوں میں سے کسی کے نام پر رکھیں، تاکہ ان کی برکتیں حاصل ہوں۔ نوٹ: دعوت اسلامی کے ادارے مکتبۃ المدینہ سے کتاب ”نام رکھنے کے احکام حاصل کریں، اس میں بہت سے نام دیے گئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر بھی نام رکھا جاسکتا ہے۔ "نور" کے معنی کے متعلق "المنجد“ میں ہے: روشنی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.