Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں قومہ اور جلسہ کو چھوڑنے کا حکم

Fatwa no.
2370-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر نماز میں جلدی کی وجہ سے قومہ اور جلسہ ترک ہو جاتے ہیں، تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

قومہ اور جلسہ دونوں علیحدہ علیحدہ واجب ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نماز میں بھولے سے ترک ہو جائے تو سجدہ سہو واجب ہو تا ہے اور اگر جان بوجھ کر ترک کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہو گا، یعنی نماز کو دوبارہ پڑھناضروری ہو گا۔ دو بحر الرائق میں ہے " وفی المحيط لوترك تعديل الأركان أو القومة التي بين الركوع والسجود ساهيالزمه سجود السهواهـ.فيكون حكم الجلسة بين السجدتين كذلك “ ترجمہ : محیط میں ہے کہ کسی نے بھول کر تعدیل ارکان ترک کر دئے یار کوع و سجود کے درمیان قومہ ترک کر دیا تو اس پر سجدہ سہو لازم ہو گا ، اے ، دونوں سجدوں کے مابین جلسہ کا بھی یہی حکم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.