Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سسر کے بھائی اور ساس کے بھائی سے پردے کا حکم
- Fatwa no.
- 2368-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا سسر کے بھائی اور ساس کے بھائی سے پردہ کر نالازم ہے ؟
Answer (beginning)
سسر کا بھائی ہونا یا ساس کا بھائی ہونا، اپنی ذات میں تو یہ محرم ہونے کا سبب نہیں ہے، لہذا اگر محرم ہونے کا کوئی اور سبب نہ ہو تو یہ دونوں نامحرم ہیں، پس ان سے پردہ کرنالازم ہے۔ البتہ !جب کزنوں کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو وہاں جب دو بہنوں کی اولادوں کی آپس میں شادی ہو گی تو ساس کا بھائی اپنا ماموں بنے گا اور دو بھائیوں کی اولادوں کی آپس میں شادی ہو گی تو وہاں سسر کا بھائی اپنا چا یا تا یا بنے گا تو ان صورتوں میں یہ محرم ہوں گے اور ان سے پر وہ بھی لازم نہیں ہو گا، یا اسی طرح کوئی اور محرم ہونے کا سبب پایا جائے تو اس کا معاملہ جدا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.