Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پرانے دور کے یادگاری سکوں پر زکوۃ کی تفصیل

Fatwa no.
2367-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کیا ہم پرانے زمانے کے سکے یعنی کو ائن شوق کے طور پر خرید سکتے ہیں ؟ اگر خرید سکتے ہیں تو اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہو گا ؟ مثال کے طور پر اکبر بادشاہ کے دور کا ایک روپیہ کا چاندی کا سکہ 4000 روپے کا خریدا، اس میں جتنے گرام چاندی ہے اس چاندی کی قیمت آج 1500 ہے تو ر ہنمائی فرمائیں کہ اس سکے کی زکوۃ چاندی کی قیمت کے حساب سے دیں گے یا جتنے کا آج ہم نے خریدا ہے؟

Answer (beginning)

اگر آپ کے پاس یہ کوائن اتنی مقدار میں موجود ہیں کہ یہ خود یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر ز کوۃ کے نصاب کو پہنچ جائیں تو اس کی زکوۃ کی ادائیگی کے دو طریقے ہیں: ) اگر تو چاندی سے اس چاندی والے کو ائن کی زکوۃ ادا کرناچاہیں تو پھر وزن کا اعتبار ہو گا۔ () اور اگر چاندی کے علاوہ کسی اور جنس مثلا پیسوں سے زکوۃ ادا کرنا چاہیں تو پھر اس دن کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے زکوۃ ادا کرنا ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.