Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹی کا نام رحمت رکھنا
- Fatwa no.
- 2354-WAT
- Issued
- 27 جمادی الثانی 1445ھ / 10 جنوری 2024ء
Question
بیٹی کا نام رحمت رکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب ارشاد فرمادیں۔
Answer (beginning)
بیٹی کا نام رحمت رکھنا شرعا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، لہذا بہتر یہی ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے، امید ہے کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔ بہار شریعت میں ہے "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں ایسے ناموں سے احتراز کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.