Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ کے مال پر زکوۃ لازم ہے یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 2345-WAT
- Issued
- 20 جمادی الثانی 1445ھ / 03 جنوری 2024ء
Question
(دعوت اسلامی) نابالغ کی ملکیت میں اگر نصاب کے برابر سونا یار تم ہو تو سال پورا ہونے کے بعد اس کی بھی زکوۃ نکالنی ہو گی یا نہیں ؟
Answer (beginning)
زکوۃ کے واجب ہونے کے لیے بالغ ہونا شرط ہے، نابالغ اگر صاحب نصاب ہو تب بھی نابالغ ہونے کی وجہ سے اس پر زکوۃ فرض نہیں ہو گی، اور نہ ہی اس کے ولی (سرپرست) پر اس کی طرف سے زکوۃ کی ادائیگی واجب ہو گی۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے ”نابالغ پر زکوۃ واجب نہیں۔ " (بہار شریعت ، جلد 01، صفحہ 875،مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) دام الان اعلانات www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.