Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رضاعی بھانجے سے نکاح کا حکم

Fatwa no.
2343-WAT
Issued
20 جمادی الثانی 1445ھ / 03 جنوری 2024 ء

Question

(دعوت اسلامی) اگر ماموں کی لڑکی نے نانی کا دودھ پیا ہو تو کیا اس سے نکاح کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

ماموں کی لڑکی کے نانی کا دودھ پینے کا مطلب یہ ہے کہ لڑکی نے اپنی دادی کا دودھ پیا ہے۔ اور شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی لڑکی نے اپنی دادی کا دودھ پیا تو دادی اس کی رضاعی والدہ بن گئی اور دادی کی بیٹیاں (جو اس لڑکی کی پھوپھیاں ہیں ، وہ) اس لڑکی کی رضاعی بہنیں بن گئیں اور رضاعی بہنوں کی اولا د اس لڑکی کے رضاعی بھانجے بھانجیاں بن گئے، اور رضاعی بھانجے سے نکاح نہیں ہو سکتا، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے ماموں کی جس لڑکی نے آپ کی نانی کا دودھ پیا ہے ، اس سے آپ کا نکاح نہیں ہو سکتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.