Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دانتوں پرخول چڑھا ہو تو غسل کا حکم
- Fatwa no.
- 2362-WAT
- Issued
- 29 جمادی الثانی 1445ھ /12 جنوری 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ڈاکٹر دانت کا ٹریٹمنٹ کرنے کے بعد اس پر خول چڑھاتا ہے اس کے ہوتے ہوئے غسل کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
ڈاکٹر نے علاج کے لئے دانت پر کلپ یا خول لگایا ہے تو اگر وہ منہ میں فکس نہیں ہے کہ بآسانی اتر جاتا ہے ، اور بعد میں اگر اس کا لگارہنا ضروری ہو تو خود اسے لگا بھی سکتا ہے اور اس کو اتار کر کلی کرنے میں کوئی حرج و ضر رو تکلیف نہیں تو اس کو اتار کر غسل کرناضروری ہے۔ اور اگر ایسا فکس ہے کہ با آسانی اتر نہیں سکتا، بلکہ اتارنا تکلیف دہ ہے یا آسانی سے اتر تو جائے گالیکن پھر دوبارہ اس کو خود لگا نہیں سکے گا اور اس کالگار ہنا ضروری بھی ہے، تو وضو و غسل کرتے ہوئے اگر چہ اس کے نیچے پانی نہ بھی جائے، تب بھی اس کو اتار ناضروری نہیں ہے ، اس کو اتارے بغیر بھی وضو و غنسل ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.