Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عصر کے بعد قضاء عمری ادا کرنا
- Fatwa no.
- 2361-WAT
- Issued
- 28 جمادی الثانی 1445ھ / 11 جنوری 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عصر کے بعد قضاء عمری جائز ہے؟
Answer (beginning)
عصر کی نماز کے بعد مکر وہ وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے قضاء عمری ادا کرنا جائز ہے اور جب مکر وہ وقت شروع ہو جائے (جو کہ پاک و ہند میں اس وقت ہوتا ہے جب سورج غروب ہونے میں تقریبا ہیں منٹ رہ جائیں ) تو اب غروب آفتاب تک قضاء نماز جائز نہیں۔ نیز یہ خیال رہے کہ قضا نماز سب کے سامنے علی الاعلان نہ پڑھے کہ یوں گناہ کا اظہار ہو گا یا لوگ بد گمانی کریں گے بلکہ تنہائی میں پڑھے۔ در مختار ورد المحتار میں ہے : " وجميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية وهي الطلوع والاستواء والغروب “ ترجمہ : پوری عمر قضاء نماز کا وقت ہے سوائے تین اوقات کے وہ طلوع آفتاب ، غروب آفتاب اور ضحوہ کبری کا وقت ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.