Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورت سوچنے میں دیر ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 2339-WAT
Question
اگر نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد ، سورت ملانے کیلئے سوچنے میں کچھ وقت گزر جائے، تو کیا سورہ فاتحہ اور سورت کے درمیان ہونے والے اس وقفے کی وجہ سے نماز ہو جائے گی یا نہیں ؟
Answer (beginning)
سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد ، سورت ملانے کیلئے سوچ بچار میں اگر تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سکوت ہو جائے، تو اس سے سجدہ سہو واجب ہو جائے گا، ایسی صورت میں نمازی پر لازم ہو گا کہ نماز کے آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کرے، اگر سجدہ سہو نہیں کرے گا تو اب نماز لوٹانا واجب ہو گا۔ ہاں اگر تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار وقفہ نہ ہو تو اب سجدہ سہو لازم نہیں۔ حاشیہ منحۃ الخالق علی البحر الرائق میں ہے ”لو فرغ من الفاتحہ و تفکرساعة ساكتاأى سورةيقرأمقدار رکن يلزمه السهو ترجمہ : نمازی جب سورہ فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوا اور خاموش ہو کر سوچنے لگا کہ وہ کونسی سورت قراءت کرے، اگر یہ سوچنا ایک رکن کی مقدار ہے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.