Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گونگے کی امامت کا حکم
- Fatwa no.
- 2337-WAT
- Issued
- 23 جمادی الثانی 1445ھ / 06 جنوری 2024ء
Question
کیا گونگا شخص ان لوگوں کا امام بن سکتا ہے جو صحیح بول سکتے ہوں ؟ اسی طرح سب گونگے ہوں تو کیا ان کا امام کوئی گونگا بن سکتا ہے؟
Answer (beginning)
گونگا شخص، ایسے کا امام نہیں بن سکتا، جو کم از کم صحیح طور پر تکبیر تحریمہ کہہ سکتا ہو ، ہاں اگر کوئی ایسا شخص ہو جو بول تو صحیح سکتا ہے لیکن تحریمہ بھی صحیح طور پر نہیں کہہ سکتا تو گونگا، اس کا امام بن سکتا ہے ، اسی طرح گونگا شخص ، دوسرے گونگوں کا امام ہو سکتا ہے ، جبکہ امامت کی شرائط موجود ہوں۔ در مختار میں ہے " (و) لا (حافظ آية من القرآن بغیر حافظ لها) و هو الامى ولا امی با خرس لقدرة الامى على التحريمة " ترجمہ : جسے قرآن پاک کی ایک آیت یاد ہو وہ اس کی اقتدا نہیں کر سکتا ہے ایک آیت بھی یاد نہیں اور ایسا شخص امی ہو تا ہے اور امی ، گونگے کی اقتدا نہیں کر سکتا کہ امی کو تکبیر تحریمہ کہنے پر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.