Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمرہ کے بعد حدود حرم سے باہر جاکر حلق کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2329-WAT
- Issued
- 19 جمادی الثانی 1445ھ / 02 جنوری 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے ساتھ جو خواتین تھیں، انہوں نے عمرہ کرنے کے بعد تقصیر نہیں کی تھی یعنی وہ خواتین مدینہ شریف پہنچنے تک احرام سے باہر نہیں ہوئی تھیں، مدینہ شریف پہنچنے پر انہوں نے وہاں تقصیر کی۔ ان خواتین کے متعلق کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
جن خواتین نے عمرہ کرنے کے بعد تقصیر مدینہ شریف پہنچ کر کی، تو ان پر حدود حرم سے باہر تقصیر کرنے کی وجہ سے دم لازم ہو گا، کیونکہ حج ہو یا عمرہ دونوں میں ہی حلق یا تقصیر کا حدود حرم میں ہو نا واجب ہے، اگر حج یا عمرے میں کوئی شخص حرم سے باہر کسی مقام پر حلق یا تقصیر کرے، تو اس پر دم لازم ہو تا ہے۔ لہذا ہو تجھی گئی صورت میں اُن خواتین پر اولا تو یہی لازم تھا کہ وہ عمرہ کرنے کے بعد تقصیر حدود حرم میں ہی کرتیں، مگر جب انہوں نے تقصیر حدودِ حرم میں نہیں کی اور مدینہ شریف پہنچ جانے کے بعد تقصیر کی تو ان پر دم لازم ہو گیا، جس کی ادائیگی حدود حرم میں کرنا ضروری ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.