Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سوتیلی خالہ سے شادی کرنا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 2328-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دور کی خالہ سے شادی کرنا کیسا ؟ جیسا کہ نانا کی دو بیویاں ہیں، تو دوسری بیوی سے نانا کی جو بیٹی ہے ، اس سے نکاح کا کیا حکم ہے؟ یعنی باپ ایک ہے، لیکن ماں الگ الگ ہے۔
Answer (beginning)
خالہ سگی ہو یا سوتیلی ، اس سے نکاح کرنا حرام قطعی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں حقیقی ماں کی سوتیلی (باپ شریک بہن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اللہ عز و جل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أَمَهْتُكُمْ وَيَنْتُكُمْ وَأَخَوَتْكُمْ وَعَمْتُكُمْ وَخُلتُكُمْ) ترجمہ کنز العرفان: تم پر حرام کر دی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں۔ (پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 23) در مختار میں ہے: ”الاشقاء و غیرهن“ یعنی سگی ہوں یا ان کے علاوہ (حرام ہیں)۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.