Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قضائے عمری کی وجہ سے سنت موکدہ چھوڑنا
- Fatwa no.
- 2326-WAT
Question
(دعوت اسلامی) قضائے عمری کسی کے ذمے باقی ہے تو کیا وہ سنت مؤکدہ چھوڑ سکتا ہے؟
Answer (beginning)
نوافل اور سنت غیر مؤکدہ کی جگہ قضا نمازیں پڑھ سکتے ہیں۔ البتہ سنن مؤکدہ کو ادا کیا جائے گا، ان کو چھوڑنے کی اجازت نہیں، کیونکہ سنتِ مؤکدہ کو ایک بار بغیر عذر شرعی چھوڑنا اساءت (برا) ہے اور چھوڑنے کی عادت بنالینا گناہ ہے۔ صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " قضا نمازیں نوافل سے اھم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھتا ہے انہیں چھوڑ کر ان کے بدلے قضائیں پڑھے کہ بری الذمہ ہو جائے البتہ تراویح اور بارہ رکعتیں (فجر کی 2 سنتیں، ظہر کی 6 سنتیں، مغرب کی 2 سنتیں ، عشاء کی 2 سنتیں ) سُنَّتِ مُوحِدَہ نہ چھوڑے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.