Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبر پر مردے کے نام کی تختی لگانا

Fatwa no.
2323-WAT
Issued
19 جمادی الاول 1445ھ /04دسمبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قبروں پر جو مردے کے نام کی تختیاں لگاتے ہیں اور اس کا نام لکھتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے ؟

Answer (beginning)

میت کی پہچان کے لیے قبر پر اس کے نام کی تختی لگانا اور اس پر کچھ لکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ عمل اسلاف سے ثابت ہے اور مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔ در مختار میں ہے "لا بأس بالكتابة إن احتيج إليها حتى لا يذهب الأثر "ترجمہ: قبر پر لکھنے کی حاجت ہو کہ قبر کے نشانات نہ مٹیں تو قبر پر لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے "فقد وجد الإجماع العملی بھا ترجمہ : قبروں پر لکھنے پر اجماع عملی واقع ہو چکا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.