Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنی سمدھن یعنی بیٹے یا بیٹی کی ساس سے نکاح کا حکم

Fatwa no.
2296-WAT
Issued
09 جمادی الثانی 1445ھ / 23 دسمبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا زید اپنی سمد حسن یعنی بیٹے یا بیٹی کی ساس سے نکاح کر سکتا ہے ؟ جبکہ سمدھن کا شوہر فوت ہو گیا ہو ، اور زید کی بیوی بھی فوت ہو گئی ہے۔

Answer (beginning)

زید اپنی سدھن سے نکاح کر سکتا ہے، جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔ فتاوی شامی میں ہے: " قال الخير الرملي : ولا تحرم أم زوجة الابن "ترجمہ : علامہ خیر الدین رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بیٹے کی بیوی کی ماں سے نکاح کرنا حرام نہیں ہے۔ (ملتقطا از ردالمحتار، کتاب النکاح، فروع: طلق امراته، جلد 3، صفحه 31 ، مطبوعہ: کوئٹه) وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat Darulifta Ahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.