Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جدہ سے مدینہ آنے پر احرام باندھنا لازمی ہوگا؟
- Fatwa no.
- 2286-WAT
- Issued
- 06 جمادی الثانی 1445ھ / 20دسمبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص اپنے والدین کو عمرے پر لے جارہا ہے، وہ شخص یو کے سے جدہ جائے گا، اور اسی دن اس کے والدین پاکستان سے جدہ اتریں گے ، پھر وہ شخص اپنے والدین کو جدہ سے ڈائریکٹ مدینہ منورہ لیکر جائے گا۔ ایسی صورت میں اس شخص پر اور اس کے والدین پر میقات سے احرام باندھنا لازم ہو گا یا پھر وہ بغیر احرام جدہ آسکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جو شخص میقات کے باہر سے آتے ہوئے حرم مکہ کے علاوہ، جل میں کسی جگہ جانے کا ارادہ کرے تو ایسے شخص پر میقات سے گزرتے ہوئے احرام باندھنا لازم نہیں ہوتا۔ اب پوچھی گئی صورت میں چونکہ اس شخص کی یو کے سے اور اس کے والدین کی پاکستان سے حرم مکہ جانے کی نیت نہیں، بلکہ جدہ جانے کی ہے اور جدہ حرم سے باہر جیل میں ہے، لہذا وہ شخص اور اس کے والدین بغیر احرام جدہ آسکتے ہیں، اُن پر میقات سے احرام باندھنا لازم نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.