Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میاں بیوی کی شرمگاہیں ملنے سےغسل واجب ہوگا یا نہیں ؟

Fatwa no.
2280-WAT
Issued
05 جمادی الثانی 1445ھ / 19 دسمبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میاں بیوی کی شرمگاہیں آپس میں صرف ملیں، صحبت نہ ہو اور بیچ میں کپڑا حائل ہو تو کیا غسل ہو گا ؟

Answer (beginning)

اگر میاں بیوی کی شرم گاہیں آپس میں صرف مل جائیں، لیکن دخول نہ ہو اور انزال (منی کا نکلنا) بھی نہ ہو تو اس وجہ سے ان پر غسل فرض نہیں ہو گا۔ اور اگر کسی کو انزال ہو گیا تو صرف اس پر غسل لازم ہو گا۔ ہاں انتشار کی حالت میں بغیر حائل کے یوں شرمگاہیں ملانے سے دونوں کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ بلکہ اگر مرد کو انتشار نہیں تھا اور مر دو عورت نے بغیر کسی حائل کے یوں شرمگاہیں ملائیں تو مرد کا وضو نہ ٹوٹے گا لیکن عورت کاٹوٹ جائے گا اور حائل ہونے کی صورت میں انتشار ہو یا نہیں ، جب تک مذی وغیرہ کوئی وضو توڑنے والی چیز نہ پائی جائے تب تک کسی کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.