Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گندم لینے کی شرط پر قرض دینا
- Fatwa no.
- 2262-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آپ کی بارگاہ میں میرا سوال یہ ہے کہ ایک بھائی مجھے کچھ رقم ادھار دینا چاہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جب آپ گندم کی کاشت کریں گے تو مجھے گندم دے دینا لیکن ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ جو ریٹ گندم کا ابھی چل رہا ہے اسی ریٹ پر کاشت کے بعد میں آپ سے گندم لوں گا، خواہ اس وقت کا جو بھی ریٹ ہو، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیے۔
Answer (beginning)
ر قم قرض دے کر واپسی پر گندم لینے کی شرط لگانا، ناجائز و حرام ہے۔ امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ : مثلا زید نے بکر کو دس رپے دیئے اس شرط پر کہ آئندہ فصل میں فی روپیہ ہیں سیر گندم لوں گا خصوصی شرط مذکور زید نے فصل مقررہ پر گندم وصول کئے فصل معین میں گندم فی روپیہ (۱۵) فروخت ہوتے تھے تو زید کو پندرہ سیر گندم جو کہ خلاف نرخ مل رہے ہیں یہ جائز ہے یا نا جائز ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.