Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا انبیائے کرام گناہوں سے پاک ہیں؟ عصمت انبیا کے معنی

Fatwa no.
2256-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے کہا: انبیائے کرام علیہم السلام گناہوں سے پاک ہوتے ہیں، ان سے کسی گناہ کا سر زد ہو نا، شر عامحال ہے اور حضرت آدم علیہ الصلاۃ و السلام نے جو شجر ممنوعہ سے کھایا تھاوہ اجتہادی خطا تھی اور اجتہادی خطا گناہ نہیں ہوتی، تو کیا ایسا کہنا درست ہے ؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! سوال میں بیان کر دہ مسئلہ بالکل درست ہے۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَةُ الله تَعَالَى عَلَيْهِ (سال وفات : 1367هـ/1947ء) لکھتے ہیں: نبی کا معصوم ہوناضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور ملک (فرشتے) کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔ عصمت انبیا کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے حفظ الہی کا وعدہ ہو لیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.