Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پہلی رکعت بیٹھ کر بقیہ کھڑے ہوکر پڑھنا
- Fatwa no.
- 2255-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے بیٹھ کر نماز شروع کی، کیونکہ اس میں کھڑے ہو کر پڑھنے کی ہمت نہیں تھی، مگر دوسری رکعت میں اس میں اتنی ہمت اور طاقت آگئی کہ وہ کھڑ ا ہو سکتا تھا اور وہ کھڑا ہو گیا اور یوں نماز مکمل کر لی، تو کیا اُس کی نماز ہو گئی ؟ یہاں پر ایک امام صاحب کہتے ہیں کہ اس طرح نماز نہیں ہوئی، اس لیے کہ اس نے ناقص انداز پر شروع کر کے کامل طریقے سے مکمل کی ہے۔ کیا یہ درست ہے ؟ر ہنمائی کر دیں۔
Answer (beginning)
فرض، واجب یا سنت فجر کی پہلی رکعت میں اگر واقعی ایسا شرعی عذر تھا کہ جس کی بنا پر بیٹھنے کی اجازت ہوتی ہے ، پھر دوسری رکعت میں اتنی ہمت بن گئی کہ کھڑے ہو کر پڑھ سکتا تھا اور کھڑا ہو گیا یا نفل نماز میں خواہ بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا شروع کی اور دوسری رکعت میں کھڑا ہو گیا، تو ایسی صورت میں نماز درست ہو جائے گی۔ چنانچہ بہار شریعت میں رد المختار و در مختار کے حوالے سے ہے: کھڑے ہو کر شروع کی تھی پھر بیٹھ گیا یا بیٹھ کر شروع کی تھی پھر کھڑا ہو گیا، دونوں صورتیں جائز ہیں، خواہ ایک رکعت کھڑے ہو کر پڑھی ایک بیٹھ کر۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.