Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ بچوں کو ملنے والے تحفے کا حکم
- Fatwa no.
- 2234-WAT
- Issued
- 20 جمادی الاول 1445ھ /05دسمبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا کسی نابالغ بچے کو ملنے والا تحفہ ماں باپ اپنے دوسرے بچوں کے استعمال میں لاسکتے ہیں؟ نیز کیا اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ بچے کا وہ تحفہ ماں باپ لے کر بدلے میں بچے کیلئے رقم رکھ دیں ؟ اگر ایسا کر سکتے ہیں تو کیا اس صورت میں مجھنے کی پوری قیمت رکھنا ضروری ہو گا ؟
Answer (beginning)
نابالغ بچے کو ملنے والا تحفہ جس میں اُس بچے کو مالک بنانے کی صراحت کر دی جائے، یاوہ تحفہ ایسا ہو جس میں بچے کو مالک بنانا ہی وہاں عرف و مقصود ہو مثلاً چھوٹے کپڑے، کھلونے وغیرہ، تو ایسی صورت میں وہ تحفہ اُس نابالغ بچے کی ملک ہو گا، نہ تو وہ خود کسی کو دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کے والدین کسی کو دے سکتے ہیں، کیونکہ جس تصرف سے نابالغ کو محض نقصان ہو، وہ نہ تو نابالغ خود کر سکتا ہے، اور نہ ہی اس کا ولی (سرپرست) کر سکتا ہے۔ نیز والدین رقم کے بدلے بھی، بچے کے اس تحفے کو نہیں لے سکتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.