Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیماری کی حالت میں نماز میں دونوں طرف سلام پھیرنے کا حکم

Fatwa no.
2224-WAT
Issued
12 جمادی الاول 1445ھ / 27 نومبر 2023ء

Question

(دعوت اسلامی) میری بہن کو فالج ہو گیا ہے ، گردن مکمل طور پہ اکڑ چکی ہے ، وہ دائیں بائیں نہیں کر سکتی، اس صورت میں وہ نماز کا سلام کیسے پھیرے، اس حوالے سے ہمیں معلومات عطا فرمادیں۔

Answer (beginning)

جب وہ گردن پھیرنے سے عاجز ہیں تو ان کے لئے گردن پھیرے بغیر صرف زبان سے دو مر تبہ الفاظ " السلام علیکم و رحمۃ اللہ "کہہ لینا کافی ہے ۔ بحر الرائق میں ہے ” ولفظ السلام۔۔۔ والخروج من الصلاة يحصل عندنابمجرد لفظ السلام۔۔۔ وفي قوله لفظ السلام إشارة إلى أن الالتفات به يمينا ويسار اليس بواجب، وإنما هو سنة“ ترجمہ : اور لفظ " السلام " کہنا واجب ہے اور ہمارے نزدیک صرف السلام کہنے سے ہی نماز سے نکلنا حاصل ہو جائے گا اور مصنف کے قول لفظ السلام سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دائیں بائیں سلام پھیر ناواجب نہیں، سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.