Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رضاعی بھائی کی بھتیجی سے نکاح کاحکم

Fatwa no.
2219-WAT
Issued
08 جمادی الاول 1445ھ / 23 نومبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا رضاعی بھائی کی بھتیجی (رضاعی بھائی کے حقیقی بھائی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے ؟

Answer (beginning)

جی ہاں رضاعی بھائی کی بھتیجی (رضاعی بھائی کے حقیقی بھائی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے جبکہ کوئی اور حرمت کی وجہ ( مصاہرت یار ضاعت وغیرہ) نہ ہو۔ کیونکہ رضاعی بھائی کی بہن سے نکاح جائز ہے تو رضاعی بھائی کی بہن اور بھائی کی اولا د سے بدرجہ اولی نکاح جائز ہو گا۔ در مختار میں ہے "و تحل اخت اخیه رضاعا" ترجمہ : رضاعی بھائی کی بہن سے نکاح جائز ہے۔ (در مختار، کتاب النکاح، ج 04، ص 398، کوئٹہ) وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الان اهلیت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net † daruliftaahlesunnat Darulifta…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.