Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دینی محفل اور اجتماع میں شرکت کرنے کی منت ماننا
- Fatwa no.
- 2214-WAT
- Issued
- 01 جمادی الاول 1445ھ / 16 نومبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی اسلامی بہن یوں منت مانے کہ اگر میر افلاں کام ہو گیا تو میں اسلامی بہنوں کے تحت ہونے والے بارہ (12) اجتماعات میں لگا تار شرکت کروں گی، اب اگر کسی وجہ سے اُس کا کوئی اجتماع رہ جائے، تو کیا اب اسے دوبارہ سے 12 اجتماع شروع کرنے ہوں گے یا پھر جتنے رہ گئے ہیں اُسے پورا کر سکتی ہے؟
Answer (beginning)
نیک اجتماعات میں شرکت یقیناً باعث سعادت ہے اور اصلاح کا ذریعہ ہے لیکن اس کی نذر ماننے سے شرکت واجب نہیں ہو جاتی لہذا اسے پورا کرنے میں لگا تار شرکت بھی ضروری نہیں ، لہذا صرف رہ جانے والے اجتماعات بھی پورے کرلے تو شرعاً یہ درست ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ” أن النذر لا يصح إلا بشروط أحدها أن يكون الواجب من جنسه شرعا فلذلك لم يصح النذر بعيادة المريض ترجمہ : منت چند شرائط کے ساتھ درست ہوتی ہے، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جس چیز کی منت مانی ہے ، وہ واجب کی جنس سے ہو ، اسی لیے مریض کی عیادت کرنے کی منت ماناشر عادرست نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.