Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو سے پہلے مسواک سنت موکدہ ہے یا غیر موکدہ؟
- Fatwa no.
- 2206-WAT
- Issued
- 07 جمادی الاول 1445ھ / 25 نومبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز سے پہلے مسواک کرنا سنت مؤکدہ ہے یا سنت غیر موکدہ؟ کیا نماز سے پہلے مسواک چھوڑ نا گناہ ہو گا؟
Answer (beginning)
مسواک وضو کی سنت قبلیہ ہے یعنی مسواک وضو سے پہلے کی سنت ہے نہ کہ نماز سے پہلے کی اور عام حالات میں یہ سنت مؤکدہ نہیں بلکہ سنت غیر مؤکدہ ہے لہذا عام حالات میں وضو سے پہلے مسواک نہ کرنے سے بندہ گنہ گار نہیں ہو گا ، ہاں مسواک جیسی عظیم سنت کی ادائیگی سے محرومی ہے، جو یقینا بہت بڑا خسارہ ہے۔ البتہ جب منہ میں بد بو ہو تو سنت مؤکدہ ہے اور اس صورت میں چھوڑنے پر عتاب یعنی ڈانٹ کا مستحق ہو گا اور چھوڑنے کی عادت بنانے پر گنہگار ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.