Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عقیقہ کی شرعی حیثیت و حکم کیا ہے؟

Fatwa no.
2202-WAT
Issued
07 جمادی الاول 1445ھ / 22 نومبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ عقیقہ کا کیا مقصد ہے ؟ اور کسی کے پاس پیسے ہیں اور وہ عقیقہ نہیں کر رہا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ اور جس کے پاس ابھی پیسے نہ ہوں تو کیا بالغ ہونے کے بعد عقیقہ کر سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

عقیقہ کا مقصد بچے کی پیدائش کا شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ عقیقہ کرنا واجب نہیں اگر کوئی نہ کرے تو گنہ گار نہیں ہو گا، بلکہ بچہ ہو یا بچی اس کا عقیقہ کرنا مستحب ہے، اس میں افضل یہ ہے کہ اس کی پیدائش کے ساتویں دن اس کا نام رکھا جائے ، اور اسی دن اس کا عقیقہ کیا جائے۔ اور ساتویں دن نہ کر سکیں تو جب چاہیں کر سکتے ہیں ، سنت ادا ہو جائے گی۔ لہذا بالغ ہونے کے بعد بھی عقیقہ کیا جاسکتا ہے۔ عقیقہ کے مقصد کے متعلق بہار شریعت میں ہے: "بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اس کو عقیقہ کہتے ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک عقیقہ مباح و مستحب ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.