Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹخنوں سے نیچے شلوار ہونے کی صورت میں نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 2180-WAT
- Issued
- 25 ربیع الثانی 1445ھ / 10 نومبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو، تو نماز نہیں ہوتی ہے، جواب ارشاد فرمادیں؟
Answer (beginning)
اگر کسی نے بغیر تکبر کی نیت کے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکتا چھوڑ دیا تو گناہ گار نہیں ہو گا، لیکن خلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ہے اور اس حالت میں نماز ہو جائے گی مگر خلاف اولی ہے۔ اور اگر تکبر کے طور پر ٹخنوں سے نیچے شلوار رکھتا ہے تو حرام ہے اور اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ہے ، جسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ لہذ اپاجامہ شلوار وغیرہ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیے کہ یہ سنت ہے اور سنت میں عظمت، برکت اور نجات ہے۔ لیکن اوپر رکھنے کے لیے کپڑے یا پینٹ وغیرہ کو اوپر یا نیچے سے فولڈ نہ کرے کہ نماز کپڑا فولڈ کیے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ،ناجائز و گناہ ہے اور نماز کو دوبارہ ادا کر نا بھی واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.