Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل فرض ہوا مگر یاد نہیں کہ کیا ہے یا نہیں تو پڑھی گئی نمازوں کا حکم
- Fatwa no.
- 2179-WAT
- Issued
- 24 ربیع الثانی 1445ھ / 09 نومبر 2023 ء
Question
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی پر غسل فرض ہوا اور یہ یاد نہیں کہ غسل کیا ہے یا نہیں غور و فکر کرنے کے بعد بھی یاد نہیں آیا کہ آیا غسل کیا تھا یا نہیں اب اس دوران جو نمازیں پڑھ لیں یا جن نمازوں میں امامت کی، ان نمازوں کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس حالت میں جتنی نمازیں پڑھیں یا پڑھائیں ساری دوہرائی ہوں گی ۔ نیز جن لوگوں نے اس امام کے پیچھے اس حالت میں نمازیں ادا کیں، انہیں بھی یہ نمازیں دہر انا لازمی ہے۔ لہذا اس امام کے لیے حکم یہ ہے کہ لوگوں میں اعلان کرے کہ اپنی نمازیں دہرائیں ، کیونکہ جب حدث (بے وضو، بے غسل ہونے کا یقین ہو اور طہارت حاصل کرنے میں شک ہو تو بندہ حدث ہی پر رہتا ہے لہذا جب غسل نہیں ہو گا تو اس حالت میں جتنی نمازیں پڑھی یا پڑھائی ہیں وہ بھی نہیں ہوں گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.