Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مہر میں جو چیز مقرر ہوئی، اس کے بدلے دوسری چیز دینا
- Fatwa no.
- 2174-WAT
- Issued
- 25 ربیع الثانی 1445ھ / 10 نومبر 2023ء
Question
ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) 11000 روپے میں مہر فکس ہوا پھر شادی کے بعد لڑکی کو بطور مہر کان کی بالی (سونے کی بالی ) دے دی کیا یہ درست
Answer (beginning)
صورتِ مسئولہ میں عقد نکاح میں 11000 ہزار روپے حق مہر طے ہوا، بعد میں میاں بیوی دونوں باہمی رضامندی سے اس کے عوض کان کی بالیوں پر اتفاق کر لیتے ہیں تو شرعا یہ درست ہے اگر بیوی راضی نہ ہو تو جو طے ہوا ہے وہی دینا لازم ہو گا۔ بدائع الصنائع میں ہے " ومن شأن المسمى أن لا يكون للزوج العدول عنه إلى غيره إلا برضا المرأة" ترجمہ : جو مہر مقرر ہو چکا اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور چیز دینا شوہر کے لئے جائز نہیں ، ہاں عورت راضی ہو تو حرج نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.