Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ساری رات ذکر و اذکار کرنا اور فجرکی نماز نہ پڑھنا
- Fatwa no.
- 2168-WAT
Question
(دعوت اسلامی) جو ساری رات ، ذکر واذکار کرے، تسبیح و وظائف پڑھے اور فجر کی نماز نہ پڑھے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
نماز اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں پر فرض کی گئی چیزوں میں سے اہم فرض ہے لہذا جان بوجھ کر بلا عذر اس کو ترک کرنا، نا جائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ جس شخص کو اندیشہ ہو کہ اب مزید جاگ کر ذکر و اذکار اور وظائف میں مشغول ہونے سے فجر میں آنکھ نہیں کھلے گی تو اس کا اب مزید جاگنا منع ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے " «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكره النوم قبل العشاء والحديث بعدها» "ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے کو اور عشاء کے حد گفتگو کو مکر وہ جانتے تھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.