Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 2165-WAT
- Issued
- 23 ربیع الثانی 1445ھ / 08 نومبر 2023ء
Question
اگر شوہر کسی سے جھوٹ میں کہے کہ ”میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں، میری دوسری شادی کروادو“۔ تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ جبکہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہی رہتا ہے اور بیوی سے کہتا ہے کہ میں نے تمہیں طلاق نہیں دی۔
Answer (beginning)
66 شوہر کا کسی سے یہ کہنا کہ ”میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں در حقیقت طلاق کا اقرار ہے، اور طلاق کے اقرار سے متعلق حکم شرعی یہ ہے کہ طلاق کا اقرار اگر چہ جھوٹا ہو ، اُس سے قضاء طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا اگر شوہر کسی سے جھوٹ میں بھی یہ کہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں تو اس سے عورت کو قضاء طلاق واقع ہو جائے گی۔ طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سے بھی قضاء طلاق واقع ہو جاتی ہے، جیسا کہ رد المختار علی الدر المختار میں ہے : " ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء “ ترجمہ : اور اگر جھوٹ میں یا مذاق میں طلاق کا اقرار کیا تو قضاء طلاق واقع ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.