Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مار کر پکڑی جانے والی مچھلی حلال ہے یا نہیں ؟
- Fatwa no.
- 2140-WAT
- Issued
- 17 ربیع الثانی 1445ھ / 02 نومبر 2023ء
Question
(دعوت اسلامی) ہم بھالے سے مچھلی کو مار کر پکڑتے ہیں تو کیا اس مچھلی کا کھانا حلال ہے ؟
Answer (beginning)
سوال میں بیان کر دہ طریقے سے پکڑی گئی مچھلی کا کھانا حلال ہے۔ البتہ طریقہ ایسا اختیار کرنا چاہیے جس سے مچھلی کو کم سے کم تکلیف ہو ۔ تنبیین الحقائق میں ہے: ”قال الأتقاني منها إذا ضربهارجل فقطع بعضها يحل المبان والمبان منه لأنه مات بآفة ظاهرة والمبان من الحي، وإن كان ميتة لكن حل المبان هناك لأن ميتة السمك حلال بالحديث “ ترجمہ : اتقانی نے کہا کہ حلال طریقوں میں سے ہے کہ اگر کسی نے مچھلی کو ضرب لگائی جس سے اس کا بعض حصہ کٹ کر علیحدہ ہو گیا تو جو علیحدہ ہوا، وہ بھی حلال اور جس سے علیحدہ ہوا، وہ بھی حلال کیونکہ بھی ظاہری آفت کی وجہ سے مرگی ہے، اور زندہ سے جو حصہ علیحدہ ہو جائے وہ اگر چہ مردار ہوتا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.