Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تجدید نکاح میں گواہ ہونا ضروری ہے

Fatwa no.
2139-WAT
Issued
17 ربیع الثانی 1445ھ / 02 نومبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ تجدید نکاح میں گواہوں کا ہونا ضروری ہے ، یا میاں بیوی خود بھی کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

جی ہاں! تجدید نکاح میں بھی گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ تجدید ایمان و تجدید نکاح کا آسان طریقہ نامی رسالہ میں ہے : " تجدید نکاح کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرناضروری نہیں۔ نکاح نام ہے ایجاب و قبول کا۔ ہاں بوقت نکاح بطور گواہ کم از کم دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتوں کا حاضر ہونالازمی ہے۔ خطبہ نکاح شرط نہیں بلکہ مستحب ہے۔ خطبہ یاد نہ ہو تو خطبے کی نیت سے اعوذ باللہ اور بسم اللہ شریف کے بعد سورہ فاتحہ بھی پڑھ سکتے 66 ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.