Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل کے دوران ریح خارج ہوجائے تو کیا کرے؟
- Fatwa no.
- 2107-WAT
- Issued
- 24 ربیع الاول 1445ھ /11اکتوبر 2023ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہیں؟ اگر کسی نے غسل کے دو فرض ادا کر لیے، پھر ریح خارج ہو گئی تو کیا یہ غسل ہو جائے گا اور اس سے نماز پڑھ سکتے
Answer (beginning)
غسل کے دوران ریح خارج ہونے سے غسل پر کوئی اثر نہیں پڑتا لہذا غسل کا باقی رہ جانے والا تیسر افرض ادا کر لیا تو غنسل ہو جائے گا، اگر چہ پہلے جو دو فرض ادا کر لیے تھے ، ان کو دوبارہ ادانہ کیا ہو۔ البتہ ! یہ یادر ہے کہ ریح کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے لہذا اعضائے وضو د ھل چکے تھے، اس کے بعد ریح خارج ہوئی تو وضو ٹوٹ جائے گا، اب اس کے بعد جب تک اعضائے وضو نہ دھلیں تو اس وقت تک نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.