Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں پہلے بائیں طرف سلام پھیرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 2099-WAT
- Issued
- 04 ربیع الثانی 1445ھ / 20اکتوبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص بھولے سے سیدھی طرف سلام پھیرنے کی بجائے پہلے الٹی طرف سلام پھیر دے ، پھر یاد آنے پر فور ادائیں جانب سلام پھیر کر بائیں جانب پھیر دے، تو کیا نماز ہو جائے گی اور ایسی صورت میں سجدہ سہو لازم ہو گا؟
Answer (beginning)
نماز مکمل کرنے کے بعد آخر میں سلام پھیرتے وقت نمازی کا دائیں اور بائیں جانب منہ پھیر نا سنت ہے، لہذا پہلے دائیں جانب منہ پھیر اجائے، پھر بائیں جانب، لیکن اگر بھولے سے پہلے بائیں جانب سلام پھیر دیا ہو ، تو اب صرف دائیں جانب سلام پھیر دینا کافی ہے ، دوبارہ بائیں طرف پھیرنے کی حاجت نہیں اور اس سے سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو گا کہ سجدہ سہو ترک واجب پر لازم ہوتا ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں پوچھی گئی صورت کا متعین جواب یہ ہے کہ شخص مذکور کی نماز تو ہو گئی، البتہ دوبارہ بائیں جانب سلام پھیرنے کی حاجت نہ تھی اور اس وجہ سے سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو تا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.