Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عنایہ نام کا مطلب کیا ہے اورعنایہ نام رکھنا کیسا؟

Fatwa no.
2076-WAT

Question

بچی کا عنایہ نام رکھنا کیسا؟

Answer (beginning)

بنائیہ (معین کے نیچے زیر اور نون ویاہ پر زبر کے ساتھ ) نام رکھنا جائز ہے، کیونکہ اس کے معنی ہیں: لطف مہربانی، توجہ التفات، تحفہ عطیہ ، حفاظت کرنا اور مراد لیناوغیر ہ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہو گی۔ المنجد میں ہے: ”عنیا و عنایة۔۔ مرادلینا، حفاظت کرنا“ ۔ (المنجد، ص591، مطبوعه: خزینه علم و ادب اردو بازار، لاہور) فیروز اللغات میں ہے : ” عنایت : لطف مہربانی، توجہ التفات ، تحفہ عطیہ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.