Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منت کو دو شرطوں پر معلق کرنا

Fatwa no.
2073-WAT

Question

(دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص اس طرح منت مانے کہ اگر زید کی طبیعت ٹھیک ہو جائے اور وہ بارہ ربیع الاول کے جلوس میں جائے تو وہ پچاس رکعت نماز پڑھے گا۔ اب زید کی طبیعت مکمل تو نہیں، مگر پہلے سے بہتر ہو گئی، لیکن وہ جلوس میلاد میں نہیں جاسکا۔ تو کیا اس صورت میں منت کو پورا کر نالازم ہو گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

جب منت کو کسی شرط پر معلق کیا جائے تو اس منت کو پورا کرنے یا نہ کرنے کے متعلق ابتداء ایک اصول تو یہ ہے کہ جب شرط پائی جائے تو منت کو پورا کرنا لازم ہوتا ہے ، ورنہ نہیں۔ یونہی جب منت کو دو شرطوں پر معلق کیا جائے تو جب وہ دو نوں شرطیں پائی جائیں تو منت کو پورا کر نالازم ہوتا ہے، اور جب ایک شرط پائی جائے اور ایک نہ پائی جائے تو اب اُس منت کو پورا کر نالازم نہیں ہوتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.