Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتر پڑھنے کا افضل وقت

Fatwa no.
2059-WAT
Issued
23 ربیع الاول 1445ھ /10اکتوبر 2023ء

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی و ترکی نماز عشاء کے بعد نہ پڑھے اور اس کو تہجد میں پڑھے تو کیا یہ طریقہ درست ہے ؟

Answer (beginning)

جسے اپنے اوپر اعتماد ہو کہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر وتر ادا کر لے گا تو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرے اور اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ پہلے تہجد ادا کریں اور آخر میں وتر پڑھیں۔ اور اگر کسی کو اپنے جاگنے پر اعتماد نہ ہو تو وہ رات کو سونے سے پہلے ہی وتر ادا کر لے۔ حضرت سید نا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من خاف ان لا يقوم من أخر الليل فليوتر اوله ومن طمع ان يقوم أخره فليوتر أخر الليل فان صلوة أخر الليل مشهودة وذلک افضل “ ترجمہ : جسے یہ اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا وہ اول شب…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.