Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں چھینک اور جماہی کی وجہ سے تاخیر ہوئی تو سجدہ سہو کا حکم

Fatwa no.
2049-WAT

Question

اگر نماز میں جماہی، ڈکار ، کھانسی یا چھینک آنے کی وجہ سے ، تین بار سبحان اللہ کی مقدار یا اس سے زیادہ وقت رُکا جائے تو کیا اس سے سجدہ سہو لازم ہو گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

اگر نماز میں جماہی ، ڈکار، کھانسی یا چھینک آنے کے سبب، تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار یا اس سے زیادہ، قراءت یا تشہد وغیرہ میں سکوت ہو جائے یا فرض و واجب کی ادائیگی میں تاخیر ہو جائے، تو اس سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑتا، اور ایسی صورت میں سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو گا۔ البتہ نماز میں جماہی یا کھانسی وغیرہ آئے تو اسے حتی الامکان روکنا مستحب ہے، لہذا کوشش کر کے جہاں تک ہو سکے اُسے رو کے اند ر کے اور اس کے سبب تین بار سبحان اللہ کے بقدر یا اس سے زیادہ وقفہ ہو جائے تو شرعا کچھ حرج نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.