Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دانتوں میں گٹکا وغیرہ پھنس جائے تو کیا غسل ہو جائیگا؟
- Fatwa no.
- 2036-WAT
- Issued
- 15 ربیع الاول 1445ھ /02اکتوبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دانتوں میں گٹکاوغیرہ پھنس جائے جس کا چھڑانا بہت مشکل ہو تو اس کو نکالے بغیر غسل ہو گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
دانتوں میں گٹکا وغیرہ پھنس جائے اور اس کا چھڑانا بہت مشکل ہو کہ اس کو جدا کرنے میں دانتوں یا مسوڑھوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس کو نکالے بغیر غسل ہو جائے گا۔ بہار شریعت میں ہے: ”دانتوں کی جڑوں یا کھڑکیوں میں کوئی ایسی چیز جو پانی بہنے سے روکے ، جمی ہو تو اس کا چھڑانا ضروری ہے اگر چھڑانے میں ضر ر اور حرج نہ ہو جیسے چھالیا کے دانے، گوشت کے ریشے اور اگر چھڑانے میں ضرر اور حرج ہو جیسے بہت پان کھانے سے دانتوں کی جڑوں میں چونا جم جاتا ہے یا عورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو معاف ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.