Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عدت کے دوران عمرہ پر جانا

Fatwa no.
2030-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کے شوہر کی وفات ہو جائے اور وفات سے پہلے شوہر نے بیوی سمیت پوری فیملی کے عمرہ پر جانے کی ترکیب بنائی ہو جس کا ویزہ بھی لگ گیا ہو اور ائیر ٹکٹ بھی آگئی ہو اور عمرہ پر جانے سے پہلے شوہر انتقال کر جائے تو کیا اس صورت میں عورت عدت کی حالت میں عمرہ کی ادائیگی کیلئے جاسکتی ہے جبکہ اس کے ساتھ ، بالغ بچے بھی ہوں؟

Answer (beginning)

عورت کو عدت کے دوران، بغیر ضرورت شرعیہ گھر سے نکلنا، ناجائز و حرام ہے ، چاہے یہ نکلنا محرم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو کہ بغیر شرعی ضرورت کے محرم کے ساتھ بھی گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ اب عدت کے اندر عمرہ کی ادائیگی کیلئے جانا کوئی شرعی ضرورت نہیں کہ اُس کیلئے عورت کو گھر سے نکلنے کی اجازت ہو، لہذا پوچھی گئی صورت میں وہ عورت عدت کے دوران، بالغ بچوں کے ساتھ بھی عمرہ کی ادائیگی کیلئے ہر گز نہیں جاسکتی، اگر جائے گی تو شرعا گنہ گار ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.