Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قادیانیوں سے لیا ہوا چندہ مسجد، مدرسہ یا جنازہ گاہ پر لگانا
- Fatwa no.
- 2029-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) (1) کیا مسلمانوں کی جنازہ گاہ کی تعمیر میں قادیانیوں کی امداد کی رقم سے تعمیراتی کام کیا جاسکتا ہے ؟ (2) اور اگر کوئی مسلمان، قادیانیوں سے رقم اکٹھی کر کے مسجد، مدرسہ یا جنازہ گاہ پر لگاتا ہے ، تو اس کا یہ عمل اسلامی اور شرعی لحاظ سے نیک عمل ہے یا بد عمل ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں قادیانیوں سے دینی کاموں کے لیے چندہ کرنے یا امداد لینے اور اسے مسجد ، مدرسہ ، جنازہ گاہ وغیرہ میں لگانے کی ہر گز بھی اجازت نہیں ہے، قادیانیوں سے کسی قسم کا تعلق رکھنا، جائز نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat DaruliftaAhlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.