Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دو آدمیوں کے جماعت سے نماز ادا کرنے کا طریقہ
- Fatwa no.
- 2015-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر صرف دوہی شخص ہوں، تو جماعت کس طرح کروائی جائے گی یعنی اس صورت میں مقتدی کہاں کھڑا ہو گا ؟
Answer (beginning)
جب صرف دو ہی شخص ہوں، ایک امام اور ایک مقتدی ہو تو اب سنت یہ ہے کہ مقتدی امام کے برابر سیدھی جانب کھڑا ہو۔ اور برابر کھڑے ہونے میں اس چیز کا لحاظ فرض ہے کہ قیام، رکوع، سجود کسی بھی رکن میں اس کے پاؤں کا ٹخنہ ، امام کے ٹخنے سے آگے نہ بڑھے۔ سیدی اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جب صرف ایک مقتدی ہو تو سنت یہی ہے کہ وہ امام کے برابر داہنی طرف کھڑا ہو مگر اس کا لحاظ فرض ہے کہ قیام، قعود، رکوع، سجود کسی حالت میں اس کے پاؤں کا گیتا، امام کے گئے سے آگے نہ بڑھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.