Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امی کی خالہ کے شوہرسے نکاح کا حکم

Fatwa no.
2013-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) امی کی خالہ کے انتقال کے بعد اس کے شوہر کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں امی کی خالہ یعنی نانی کی بہن کے شوہر سے نکاح جائز ہے جبکہ کوئی اور وجہ ممانعت مثلا رضاعت ( دودھ کارشتہ ) وغیرہ نہ ہو۔ کیونکہ جب وجہ ممانعت نہ ہونے کی صورت میں اپنی خالہ کے انتقال کے بعد اس کے شوہر سے نکاح کرنا جائز ہے تو ماں کی خالہ کے شوہر سے نکاح کرنا بھی جائز ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ” زوجہ کا انتقال ہوتے ہی فورا اس کی بھتیجی بھانجی سے نکاح جائز ہے ”لعدم الجمع نكاحاولاعدة اذلاعدة على الرجل كما حققه في العقود الدرية “(کیونکہ یہاں(پھوپھی بھتیجی یا خالہ بھانجی کو نہ تو نکاح میں جمع کرنا پایا جار ہا ہے اور نہ عدت میں کیونکہ مرد پر کوئی عدت نہیں ہوتی جیسا کہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.