Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا والدہ کے روزوں کا فدیہ اُن کی بہو کو دے سکتے ہیں؟

Fatwa no.
2002-WAT
Issued
01 ربیع الاول 1445ھ / 18 ستمبر 2023ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا والدہ کے روزوں کا فدیہ اُن کی بہو کو دے سکتے ہیں، جبکہ بیٹا یعنی بہو کا شوہر انتقال کر چکا ہے اور بہو بیوہ ہے؟

Answer (beginning)

روزوں کا فدیہ ، صدقات واجبہ میں سے ہے اور صدقہ واجبہ انہی کو دے سکتے ہیں جن کو زکوۃ دے سکتے ہیں، جنہیں زکوۃ نہیں دے سکتے ، انہیں کسی قسم کا صدقہ واجبہ بھی نہیں دے سکتے۔ پوچھی گئی صورت میں اگر بہوسیدہ یا ہاشمیہ نہ ہو اور ساتھ میں شرعی فقیر بھی ہو یعنی مالک نصاب نہ ہو تو ایسی صورت میں بہو کو ساس کے روزوں کا فدیہ دے سکتے ہیں ، جس طرح اسے زکوۃ دے سکتے ہیں کیونکہ جس کا فدیہ دیا جارہا ہے ، بہو نہ اس کی اصل ہے ( یعنی اس کی ماں، دادی، نانی وغیرہ ) اور نہ اس کی فرع ( یعنی اولاد )۔ البتہ ! اگر بہو سیدہ یا باشمیہ ہو یا شرعی فقیر نہ ہو تو اب اسے فدیہ نہیں دے سکتے ، جس طرح اسے زکوۃ نہیں دے سکتے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.