Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مرتد کے ذبیحہ کا حکم
- Fatwa no.
- 2000-WAT
Question
مرتد کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے ؟
Answer (beginning)
مرتد کا ذبیحہ حرام و مردار ہے ، اس کا کھانا جائز نہیں، اگر چہ بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر ذبح کرے۔ چنانچہ در مختار 66 میں ہے: ” لا تحل ذبیحہ غیر کتابی من وثنی و مجوس و مرتد ۔ “ ترجمہ : غیر کتابی یعنی مجوسی ، ستاره پرست، اور مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں۔“ (درمختار، جلد06،صفحہ298،دارالمعرفة، بيروت) بہار شریعت میں ہے " مرتد کا ذبیحہ مردار ہے اگر چہ بسم اللہ کر کے ذبح کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.