Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غلطی سے کفریہ الفاظ کا منہ سے نکلنے پر حکم
- Fatwa no.
- 1999-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر منہ سے غلطی سے کفریہ کلمہ نکل جائے اور اس کا ارادہو نہ ہو تو اب کیا بندہ کا فر ہو جائے گا ؟
Answer (beginning)
اگر کسی شخص کی زبان سے واقعی غلطی سے کلمہ کفر نکل جائے یعنی کہنا کچھ چاہتا تھا لیکن زبان سے ایسی بات یا لفظ نکل گیا جو کفر ہے اور وہ اس کلام سے نفرت و بیزاری کا ظہار بھی کرے کہ سننے والوں کو معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے تو ایسا شخص کا فر تو نہیں ہو گا لیکن اسے اس سے توبہ و استغفار کرنے کا حکم دیا جائے گا اور اسے چاہیے کہ آئندہ زبان کی حفاظت کرے۔ بہار شریعت میں ہے: " کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کا فرنہ ہو ا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سنے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی بیچ کی تو اب کا فر ہو گیا کہ کفر کی تائید…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.