Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھانجے کی بیٹی سے نکاح کا حکم

Fatwa no.
1981-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا میری سنگی بہن کی پوتی میرے نکاح میں آسکتی ہے، یعنی (صورت مسئلہ یہ ہے کہ ) میرے سگے بھانجے کی بیٹی ہے۔ اور میں اس لڑکی کے والد کا سگا ماموں ہوں، تو کیا میرا اس لڑکی کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

قوانین شریعت کی روشنی میں کسی شخص کا اپنے سگے بھانجے کی بیٹی سے نکاح نا جائز و حرام ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ اپنے سگے بھانجے کی بیٹی سے نکاح نہیں کر سکتے کیونکہ سگے بھانجے کی بیٹی ، اپنی اصل قریب یعنی اپنے والدین کی فرع بعید ہے اور اصل قریب کی فرع بعید بھی حرام ہوتی ہے۔ وو فتاوی ہندیہ میں ہے ” ( القسم الأول المحرمات بالنسب). وهن الأمهات والبنات والأخوات۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.